نئی دہلی، 16 ؍نومبر(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا )نوٹ بند ی کے حکومت کے فیصلے سے ملک کے لوگوں ، خاص طور سے غریب اور دیہی علاقوں کی عوام کو ہونے والی شدید پریشانیوں کی طرف توجہ دلاتے ہوئے اپوزیشن نے آج الزام لگایا کہ اس سے نہ صرف ملک میں اقتصادی افراتفری پیدا ہو گئی بلکہ پوری دنیا میں یہ پیغام گیا ہے کہ ہندوستانی معیشت میں بلیک منی کابول بالا ہے۔تاہم حکومت نے ان الزامات سے انکار کرتے ہوئے دعوی کیا ہے کہ ملک کے زیادہ تر لوگ اس فیصلے کا خیر مقدم کر رہے ہیں اور اس سے فیصلے مستقبل میں سود کم ہونے سمیت عام لوگوں کو کئی فوائد ملیں گے۔راجیہ سبھا میں آج سرمائی اجلاس کے پہلے دن نوٹ بند ی اور اس سے عوام کو ہو رہی پریشانی کے مسئلہ کو اٹھاتے ہوئے کانگریس نے کہا کہ حکومت سب سے پہلے یہ بتائے کہ بلیک منی کی تعریف کیا ہے۔کانگریس کے آنند شرما نے نوٹ بند ی کے معاملے پر ایوان بالا میں بحث کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ 8 ؍نومبر کو وزیر اعظم نریندر مودی نے قوم کے نام پیغام میں 500 اور 1000روپے کے نوٹوں کو آدھی رات سے بند کئے جانے کا اعلان کیا۔آزاد ہندوستان کی تاریخ میں پہلی بار وزیر اعظم نے قوم کے نام پیغام کے ذریعے اتنے بڑے فیصلے کی اطلاع دی۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے قوم کے نام خطاب میں کہا تھا کہ بلیک منی دہشت گردی پر روک کے لیے یہ قدم ضروری ہے۔روپے کا استعمال دہشت گرد بھی کرتے ہیں اور جعلی کرنسی بھی چلن میں ہے، اس لیے یہ قدم ضروری ہے۔شرما نے کہا کہ جب اس بات کا اعلان کیا گیا تب ملک میں 16لاکھ 63ہزار کے کرنسی نوٹ سرکو لیشن میں تھے اور ان میں سے 86.4فیصد نوٹ 500اور 1000روپے کے نوٹوں کے تھے۔سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا یہ 86.4فیصد نوٹ بلیک منی کے تھے ، جو بازار میں لگے تھے ۔